سیکرٹری پرندہ (سانپوں کا سب سےبڑا شوقین)

منہ عقاب جیسا ، ٹانگیں بغلے جیسی جسم تقریباً 5 کلو وزنی اور قد انسانی بچے جتنا 4 فٹ اور کچھ انچ۔یہ پرندہ سو ڈان اور سائوتھ افریقہ کے درمیان گھاس اور بوٹیوں کے گرم میدانوں(Savanna) میں پایا جاتا ہے۔
اس پرندے کی پہچان کی خاص وجہ اسکی من پسند خوراک سانپ اور کوبرا ہیں اس کے علاوہ یہ چھپکلیوں، مینڈک، کیڑے، بھڑ، چوہے اور خرگوش کے بچے بھی کھا جاتا ہے۔یہ اس کام کے لئے اپنے پنجوں کا استعمال کرتا ہے۔
سانپ کے ساتھ سامنا ہوتے ہی یہ اپنے پر لمبے کرکے پھیلا لیتا ہے اور سر کو اٹھا کر اپنے سر کا کالے پروں کا تاج اٹھا لیتا ہے۔ سانپ چونکہ کمزور نظر رکھتے ہیں اور دشمن کی حرارت محسوس کرکے اسکی جسامت کا اندازہ لگاتے ہیں اس لئے یہ پرندہ سانپ کو ڈرانے میں کامیاب رہتا ہے ۔ اسکی نظر سانپ کے سر پر جمی رہتی ہے اور موقع پاتے ہی یہ اس کے سر پر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیتا ہے۔
سانپ اس پر جوابی کاروائی بمشکل ہی کرسکتا ہے کیونکہ سانپ کی رفتار اسکے مقابلے میں کم ہے اور اگر کر بھی لے تو اسکے پھیلے ہوئے خشک پر ہی اس کے منہ میں آئیں گے اور اسکی خشک ٹانگیں اور ان پر چڑھی ہوئی جلد پر سانپ کا منہ نہیں پڑ سکتا حالانکہ یہ پرندہ سانپ کے زہر سے مر سکتا ہے اور نیولے کی طرح زہر سے immune نہیں ہے ۔
اس کے پنجہ مارنے کی رفتار آپ کی پلک جھپکنے سے بھی تیز یعنی 10 سے 15 ملی سیکنڈ ہوتی ہے اور پنجے میں طاقت اسکے جسم سے بھی تین گنا زیادہ یعنی 20 کلو ہوتی ہے یعنی جیسے سانپ کے سر پہ 20 کلو کا پتھر مار دیا ہو۔ یہ اپنے شکار کو مارنے کے بعد سالم نگل جاتا ہے۔
اسکا نام بھی دلچسپ ہے اور اسکے پیچھے کئی کہانیاں ہیں۔
کچھ کہتے ہیں کہ اٹھارویں صدی کے شروع میں چونکہ کلرک اور سیکٹری پرندوں کے کھمب(Quills) سیاہی میں استعمال کرکے ان سے لکھا کرتے تھے اور اس پرندے کے سر کے کھنمب بھی پھیلے ہوئے اسی طرح لگتے ہیں تو اس وجہ سے اسکا نام پڑا۔
ایک اور کہانی یہ ہے کہ اسکا نام سو ڈان کی قومی زبان عربی سے لفظ سقر الطیر سے نکالا گیا ہے جسکا مطلب ہے صحرائی عقاب۔
بہرحال جیسا اس کا نام ہے اسی لحاظ سے یہ پرندہ Secret بھی ہے یعنی اسکے عمل تولید (sex life) کے بارے میں کچھ معلوم نہیں البتہ یہ ضرور جانکاری ملی ہے کہ یہ گھاس کے میدانوں میں موجود ببول کے درخت ( acacia) پر سوکھی ٹہنیاں ڈال کے اپنا گھونسلہ بناتے ہیں اور سال میں دو سے تین انڈے دیتے ہیں۔
مادہ یہ سبز و نیلے رنگ کے انڈے دو سے تین دن کے وقفے سے ایک ایک کرکے دیتی ہے۔ نر بھی انڈے سینکنے میں مدد کرتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر کام شکار کا ہوتا ہے۔ تقریباً 50 دن میں انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں جنہیں نر اور مادہ دونوں کھلاتے ہیں بعض اوقات خوراک کافی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ایک یا دو بچے مر جاتے ہیں اور زیادہ تر مرنے کے چانس سب سے چھوٹے بچے کے ہوتے ہیں۔
یہ پرندہ سو ڈان کی خاص پہچان ہے وہاں اسکی تصویروں کے ڈاک ٹکٹ بھی موجود ہیں اسکے علاوہ صدراتی جھنڈے اور صدارتی مہر پر بھی اس پرندے کا Logo درج ہے۔ یہ پرندہ زہریلے سانپوں سے مقابلہ کرتا ہے جو اس ملک کے لئیے دشمن سے مقابلہ کرنے کے مشابہہ ہے۔
یہ پرندے ایسی گھاس کے آس پاس رہنا پسند کرتے ہیں جو دو فٹ سے زیادہ اونچی نہ ہو کیونکہ وہاں یہ اپنا شکار آسانی سے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ زمین پر چل کر ہی گزارتے ہیں اور دن میں 35 کلومیٹر تک 120 قدم فی منٹ کی رفتار سے چلتے رہتے ہیں۔
یہ بہت اونچی اڑان بھر سکتے ہیں اور اکثر اپنے مسکن کے اوپر دن کے وقت کھلی فضا میں اڑتے رہتے ہیں تاکہ گرمی سے بچ کر ٹھنڈی ہوا کے مزے لیں۔ شکار کا وقت عموماً سہ پہر سے شام تک رہتا ہے اور شام کے بعد یہ اڑ کر اپنے گھونسلے میں چلے جاتے ہیں جہاں یہ رات گزارتے ہیں۔
حضرت انسان کا گھاس کے میدانوں کو جلا جلا کر گھریلو مویشیوں کی جگہ بنانے اور سڑکیں تعمیر کرنے کی وجہ سے ان پرندوں کو شکار ڈھونڈنے میں مشکل پیش آرہی ہے جسکی وجہ سے یہ اپنی نسل ٹھیک طرح سے بڑھا نہیں پارہے اور انکی نسل ڈرامائی انداز میں کم ہوئی ہے جس پر بین القوامی جانوروں کی تنظیموں نے اسے معدومیت کے خطرے میں شمار کر کے گورمنٹ کو آگاہ کیا ہے اور گورمنٹ ان کی نسل کی حفاظت کے لئیے حرکت میں آئی ہے۔
اسکے علاوہ کئی مقامی قبیلے اس کے جسم کی چربی کو ابال کر گھریلو مرغیوں کو کھلاتے ہیں اس کے انڈے استعمال کرتے ہیں اور اسکے پروں کو جلا کر بیماریوں سے بچائو کے لئیے دھونی لیتے ہیں اس کا بھی ان کی نسل کم ہونے پر اثر پڑا ہے۔
قدرتی ایکو سسٹم میں ایسے جانوروں کا بقائو بہت ضروری ہے جو زہریلے جانوروں کو کھا کر انکی آبادی میں تناسب رکھیں جس سے انسانی نسل محفوظ رہے۔سیکرٹری پرندوں پر کوئی بھی مائی کا لال جانور عام طور پر حملہ نہیں کرتا البتہ انکے بچے مقامی کووں ، الو اور عقاب کا شکار ضرور ہوجاتے ہیں۔

تحریر: عظیم لطیف

بارش کے بعد ہوا ميں پانی کے تیرتے ہوئے ننھے ننھے کروی (گیند نما Spherical) قطروں پر جب سورج کی سفید روشنی پڑتی ہے تو سات رنگوں میں بکھر جاتی ہے جسے دھنک یا۔۔۔ مزید پڑھیں

آج ہم وٹامن ای کے ان حیران کن فوائد اوراستعمالات کے بارے میں بتائیں گے، جن کے بارے میں آپ نے کبھی بھی نہیں سناہوگا۔وٹامن ای کومختلف اشیاے کے ساتھ۔۔۔ مزید پڑھیں

ملک و ملت کا نام روشن کرنے والوں کا نام روشن رکھنا زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے۔ ہم بحیثیتِ پاکستانی اپنے فرزندِ ملت ڈاکٹر عبدالسلام کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

کچھ کھانے ایسے ہیں جنہیں دوسرے کھانوں میں شامل کر کے کھایا جائے تو وہ ہمارے نظام انہظام پر اچھے اثرات مرتب نہیں کرتے اور بعض دفعہ ہمیں بیمار بھی کر دیتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

دنیا میں چند عمارات ایسی بھی ہیں جن کی تعمیر پر ایک شاہانہ بجٹ خرچ کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی انہیں دنیا کی مہنگی ترین عمارات ہونے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا،حضور آپ وزیر کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔ بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،ٹھیک ہے لیکن پہلے تم۔۔۔ مزید پڑھیں

یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا ۔ایک ہندو احترام قران میں اس دنیا کی آگ سے محفوظ رہا ہم اس کتاب پر۔۔۔ مزید پڑھیں

یہ ایک مفلس غریب الوطن کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے جو ثابت کرتی ہے کہ آپ ڈٹے رہیں، محنت کرتے رہیں تو بالآخر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

برہنہ حالت میں کبھی خود کو آئینے میں مت دیکھیں کیونکہ اس طرح جن آپ پر عاشق ہو سکتے ہیں اور آپ کے ساتھ تعلق کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اور کوئی بھی ۔۔۔ مزید پڑھیں

جوزف سوان اور تھامس ایڈیسن نے 1870 کی دہائی میں بجلی کا بلب بنایا۔ اس سے چند برس بعد ایڈیسن نے بجلی بنانے کے سٹیشن نیویارک میں پرل سٹریٹ اور لندن میں ۔۔۔ مزید پڑھیں

انسان نے سونا 8,000 سال قبل دریافت کر لیا تھا۔ 750 سال قبل از مسیح تک یعنی سونے کی دریافت کے سوا پانچ ہزار سال بعد تک انسان صرف سات دھاتوں سے واقف تھا ۔۔۔ مزید پڑھیں

سورہ کہف کی تلاوت فتنے دجال سے نجات کا باعث ہے ۔ خروج دجال قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے اور فتنہ دجال زمانے کے شروفتن میں سب سے بڑا فتنہ ہے مکہ مکرمہ۔۔۔ مزید پڑھیں