مسلم سائنسدان اور اُنکی ایجادات…اصلاحی تحریر

اس آرٹیکل میں موجود تمام معلومات کو سنبھال کہ رکھیئے کیونکہ یہ آپ کو بتائیں گی کہ مسلمانوں نے ترقی کے میدان میں دنیا کو کیا کچھ دیا ۔۔
کیمرہ :
قدیم یونانیوں کا خیال تھا کہ ہماری آنکھوں سے روشنی کی کرنیں نکلتی ہیں جو اشیاء میں جذب ہو جاتی ہیں اور ہمیں دیکھنے کے قابل بناتی ہیں۔وہ پہلا شخص جس نے دسویں صدی میں ثابت کیا کہ روشنی کی کرنیں آنکھوں سے نکلتی نہیں بلکہ آنکھوں میں داخل ہو کر ہمیں دیکھنے کہ قابل بناتی ہیں وہ بھی مسلمان سائنسدان ، ریاضی دان ، فلاسفر اور طبیعات دان ابن الہیثم تھا۔
جی ابن الہیثم ہی وہ پہلا انسان ہے۔ جس نے کھڑکی کے راستے آنے والی روشنی کی ایک کرن کا جائزہ لیتے ہوئے پہلا کیمرہ ایجاد کیا تھا۔ابن الہیثم نے اس پر محنت شروع کی کہ کتنے چھوٹے سوراخ سے کتنی بہتر تصویر بن سکتی ہے اور آخر کار انہوں نے پہلا کیمرہ عربی لفظ “Obscura” کے نام سے ایجاد کیا۔طبیعات کو پہلی بار فلسفیانہ سرگرمیوں سے تجرباتی سرگرمیوں تک منتقل کرنے کا سہرا بھی ابن الہیثم کے سر ہے۔
کافی :
کہانی یہ ہے کہ ایک خالد نامی عربی جنوبی ایتھوپیا کے علاقے کیفے میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا جب اُس نے اپنے جانوروں کو کچھ بیری (لکڑی) کھاتے دیکھا ، پہلی بار اُس نے اِس بیری کو کوفی بنانے کیلئے اُبالا۔
یمن پہلے وقتوں میں کوفی ایتھوپیا سے منگواتے تھے تاکہ خاص مواقع پر ساری رات عبادت کیلئے جاگا جا سکے۔15ویں صدی کے اختتام تک یہ مکہ اور ترکی میں بھی پہنچ گئی جہاں سے 1645 میں وینس تک کا سفر طے کیا۔
انگلیڈ میں کافی تو 1650 میں آئی وہ بھی ایک ترک کے ذریعے جس نے پہلی کافی شاپ لندن کے شہر “لومبرڈ سٹریٹ” میں بنائی تھی ، عربی قہوہ پہلے ترکی قہوہ بنا اور پھر اطالوی کیفے اور انگریزی کافی میں تبدیل ہو گیا ۔
پین :
فاؤنٹین پین مصر کے سلطان کے مطالبہ پر 953 میں ایجاد کیا گیا جس سے ہاتھوں اور کپڑوں پر داغ نہ لگیں ۔ اِس میں جدید قلم کیطرح سیاہی کا ذخیرہ کرنے کی جگہ نہیں تھی بلکہ نب پر سیاہی لگا کر استعمال کیا جاتا تھا بعدازاں اسے میں تبدیلی کر کے جدید قلم تیار کیے گئے ۔
صابن /شیمپو :
دھونا اور غسل مسلمانوں کی مذہبی ضروریات ہیں ، جنہیں پورا کرنے کیلئے شائد انہوں نے یہ صابن بنایا جِسے ہم آج تک استعمال کر رہے ہیں ، قدیم مصریوں کے پاس بھی صابن کی ایک قسم تھی جو رومی زیادہ استعمال کرتے تھے لیکن یہ عرب ہی تھے جنہوں نے سوڈیم ہائڈروآکسائڈ اور ارومیٹکس کو سبزیوں کے تیل میں ملا کر ایک تیل تیار کیا۔
عربوں کے نزدیک صلیبیوں کی ایک بہت بری خصوصیت یہ تھی کہ وہ صفائی (دھوتے) نہیں کرتے تھے۔
شیمپو تو ایک مسلمان کیطرف سے انگلینڈ میں متعارف کروایا گیا جس نے 1759 میں ایک فیکٹری محمد’ز انڈین ویپرباتھ کے نام سے برائٹن سمندر کے کنارے لگائی تھی اور بعد میں یہ شیمپو بنانے کیلئے کِنگ جارج چہارم اور ویلیم چہارم میں سرجن مقرر ہوئے ۔
پرفیوم اور مِنرل واٹر :
یہ جابر بن حیان ہی تھے جنہوں نے مائع کو ابالتے ھوئے تسلسل کے فرق سے 800 سال پہلے کیمیا کو کیمسٹری میں بدل دیا ، بہت سے بنیادی عمل اور سازوسامان کی تیاری آج بھی استعمال میں ہے جیسا کہ مائکرو فکشن، کرسٹسٹائل، آسنش، صاف، آکسائڈیشن، بپتسما اور فلٹریشن۔۔۔
جب وہ سلفیاتی اور نائٹک ایسڈ دریافت کرنے میں لگے ہوئے تھے انہوں نے ایک جھلک دیکھی جس سے دنیا کو منرل واٹر ، خوشبوؤں اور الکوحل سپرے جیسے تحائف ملے ( اگرچہ الکوحل حرام ہے یا اِسلام میں حرام ہے) ، ابن حیان ہی جدید کمِسٹری کے بانی تھے جنہوں نے منظم نظام پر زور دِیا ۔
چیک کیش کرانے کا نظام :
جدید چیک نظام عربوں کے اُس طریقہ کار کی شکل ہے جس میں وہ ایک تحریر سامان کے ملنے پر ثبوت کے طور پر لِکھ کر دیتے تھے کیونکہ سفر میں پیسہ ساتھ رکھنا کسی خطرے سے کم نہ تھا۔ نوویں صدی کے بعد ایک مسلمان تاجر بغداد میں اپنے بنک کا چیک چائنہ میں بھی کیش کروا سکتا ہے ۔
باغات :
وسطی یورپ میں کچن اور جڑی بوٹیوں کے باغات تھے لیکن یہ عرب ہی تھے جنہوں نے باغ کے خیال کو خوبصورتی اور مراقبے کی جگہ کیلئے تیار کیا تھا۔اسپین کے مسلمانوں نے گیارہویں صدی میں سب سے پہلے شاہی باغات بنائے ، پھول جو ان باغوں میں اُگائے گئے اُن میں “گریز اور ٹولپ” شامل ہیں ۔
انجن:
اِنسانی تاریخ میں مکینیکل ایجادات میں ایک بہت بڑی ایجاد جسے ایک غیرملکی مسلم انجینئر “الجزاری” نے ایجاد کیا تھا آبپاشی کیلئے پانی کو بڑھانا تھا۔انکی کتاب “غیرملکی مکینیکل آلات کا علم” سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے والوز اور پسٹن کا نظام بھی ایجاد کِیا اور پہلی مکینیکل گھڑی بھی ایجاد کی جو پانی اور وزن سے چلتی ہے اور یہ “الجزاری” روبوٹس کا بھی موجد تھا اور اس کتاب میں ان کی دوسری 50 ایجادات کا مجموعہ بھی بند تھا ۔
سرجری کے آلات :
بہت سارے جدید جراحی آلات بالکل اسی طرح کے ڈیزائن ہیں جیسے 10ویں صدی میں مسلمان سرجن الزہروی نے تیار کیےتھے۔اس کے بنائے گئے سکیلیلز ، ہڈیوں کی چوڑیاں ، آنکھوں کی سرجری کے لئے قینچی اور ان کے 200 سے زائد آلات جدید سرجری کے آلات کے طور پر شناخت کر لیےگئے ہیں۔
یہی وہ سرجن تھا جس نے سلائیوں کا بیلگٹ ایجاد کیا جو اندرونی ٹانکوں کو قدرتی طور پر نارمل طریقے سے علاج کرتا ہے یہ انہوں نے تب دریافت کیا جب انکا بندر تار کھا گیا تھا ۔13   ویں صدی میں ایک اور مسلمان ڈاکٹر “ابنِ نفیس” نے ویلیم ہاروے سے 300 سال پہلے خون کی گردش کو دریافت کیا۔
جہاز :
رائٹ برادرز کی اس دُنیا میں آمد سے تقریباً ہزار سال پہلے ایک مسلم شاعر ، موسیقار ، انجینئر “عباس ابنِ فرناس” نے بہت کوششیں کیں اُڑنے والی مشین بنانے کی اور 852 میں انہوں نے لکڑی کے ایک ڈھیلے چھتے کا استعمال کرتے ہوئے کوڈوبو میں بڑی مسجد کے منار سے چھلانگ لگائی۔۔۔
انہوں نے لکڑی کے طوفان کے ساتھ سخت محض ایک ڈھیلا چھت کا استعمال کرتے ہوئے کوڈوبو میں گرینڈ مسجد کے منار سے چھلانگ لگا دیا ، انہوں نے ایک پرندے کی طرح اُڑنے کی امید کی لیکن ایسا کُچھ نہ ہوا لیکن لکڑی کے چھت نے ان کے گرنے کی رفتار بہت آہستہ کر دی ، یہ پہلا “پیراشوٹ” تھا جن کا انہوں نے سوچا تھا جس نے انہیں معمولی زخم بھی دئیے ۔
سن 875 میں جب وہ ستر سال کے تھے انہوں نے ایک “پیراشوٹ” ایجاد کر لیا جس کے ذریعے انہوں نے دوبارہ ایک پہاڑ سے چھلانگ لگا کر اُرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایک اونچائی پر اِسے 10 منٹ تک اُڑایا اور پھر صحیح طریقے سے نیچے بھی اُتارا لیکن یہ “پیراشوٹ” نیچے اُترنے پر ٹوٹ گیا یہ اِس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اس “پیراشوٹ” کو ایک دُم نہیں لگائی تھی۔بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور چاند پر ایک جوالا مکھی (آتش فِشاں) اِن کے نام سے نامزد ہیں۔
قالین :
قالینوں کو قرون وسطی مسلمانوں کی طرف سے جنت کا حصہ سمجھا جاتا تھا ، اُن سب کا شکریہ جنہوں نے قالین بُننے کے جدید طریقے اور ڈیزائن تیار کیے۔
جب تک عرب اور فارسی قالین ایجاد نہیں ہوئے تھے تب تک یورپ کے فرش بھی صرف زمین ہی تھے بلکہ بنجر زمین۔۔۔
یورپ میں بہت بھیڑ کی وجہ سے فرش بہت گندے ہو جاتے تھے جن کو صاف کرنا پڑتا تھا لیکن وہ مکمل صفائی بہت مشکل ہوتی تھی کبھی کبھی کوئی گندگی کی تہہ رہ جاتی تھی سالوں سال صاف نہیں ہو سکتی تھی۔جیسے ابکائیوں کا گرنا ، کتوں کا اخراج یا مچھلی کی گندگی وغیرہ فرش سے صاف کرنا بہت مشکل تھا۔ قالینوں کی وجہ سے حیرت انگیز طریقے سے آسانی پیدا ہو گئی ان سب کو صاف کرنے میں ۔
شیشے کے گلاس اور دیگر مصنوعات :
علی ابنِ نفی (زریاب) نوویں صدی میں عراق سے کورڈوبا آیا اور ساتھ تین قسم کے کھانے لایا جن میں مچھلی کا سوپ یا گوشت ، پھل اور میوے شامل تھے۔انہوں نے شیشے کے گلاس بھی متعارف کروائے۔ جن کا انعقاد عباس بن فرناس کی طرف سے شیشے کے پتھر کے ساتھ تجربات کے بعد کیا گیا تھا ۔
ڈِگری /سند :
یونیورسٹیوں میں ڈگری یا سند کو متعارف کروانے کا سہرا مراکش کی القاراؤن یونیورسٹی کی فاطمہ الفیہری کے سر جاتا ہے۔یہ طریقہ کار آٹھویں صدی میں متعارف کروایا جسے بعد میں مغربی دُنیا میں اپنایا گیا اور آج بھی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈگری دی جاتی ہے ۔
الجبرا :
ریاضی کے علم کو “الجبرا” کا تحفہ دینے والا “موسیٰ الخوارزمی” تھا ، یہاں سب کو یہ بھی یاد دہانی کرواتے چلیں کہ کمپیوٹر اور کیلکولیٹر کی تخلیق “الجبرا” کے بغیر ممکن نہیں تھی۔یہ عظیم سائنسدان اور ریاضی دان “محمد بن موسی الخواریزی” کی طرف سے تیار کیا گیا تھا، جو 780 سے 850 تک فارس اور عراق میں رہتے تھے ۔
اناکولیشن یا سرِنج :
اناکولیشن یا سرنج کے ذریعے دوائی جسم میں منتقل کرنے کا طریقہ کار سب سے پہلے ترکی میں ایجاد ہوا جسے 1724 میں ترکی میں تعینات انگریز سفیر کی اہلیہ یورپ لے کر گئی ، ترکی میں انجیکشن کے ذریعے چیچک کا علاج کیا جاتا تھا جو یورپ میں پچاس سال بعد منتقل ہوا۔
ہوا سے چلنے والی چکی :
سب سے پہلے وِنڈ مِل (ہواسےچلنےوالی چکی) 634 عیسوی میں عرب اور فارس میں بنائی گئی جس سے گندم پیسنے اور زراعت کیلئے پانی مہیا کرنے کا کام لیا جاتا تھا ، یورپ میں اس چکی کا استعمال گیارہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا ۔
دُنیا گول ہے :
نوویں صدی عیسوی سے پہلے سائنسدان یقین رکھتے تھے کہ دُنیا گول ہے لیکن اِس کا ثبوت کسی کے پاس نہیں تھا۔ابنِ حازم نے پہلی بار اِس کا ثبوت دِیا جو کہ گلیلیو کے “دُنیاگول ہے” کہنے سے 500 سال پہلے کا واقعہ ہے۔مسلم خلادانوں کی شماریں اتنی درست تھیں کہ 9 ویں صدی میں انہوں نے زمین کی حدود کو 40،253.4 کلومیٹر پر رکھا 200 کلو میٹر سے کم۔
عالم ال ادریس نے دنیا بھر میں 1139 میں سسلی کے بادشاہ راجر کی عدالت کی دُنیا کے گلوب پیشکش کی ۔
غرض یہ کہ :
دُنیا میں سب سے پہلا “کیمرہ” ایجاد کرنے والا “ابنِ الہیثم” ہے۔
دُنیا میں سب سے پہلا “کیلنڈر” ایجاد کرنے والا “عُمرخیام” ہے۔
آپریشن سے قبل مریض کو “بےہوش” کرنے کا طریقہ متعارف کروانے والا “زکریاالرازی”ہے۔
دُنیا میں “الجبرا” ایجاد اور متعارف کروانے والا “موسیٰ الخوارزمی” ہے۔
سن 1957 میں “شیمپو” ایجاد کرنے والا “محمد” ہے۔
زمیں پہ آنے والے “زلزلوں” کی سب سے پہلے سائنسی وجوہات بیان کرنے والا “ابنِ سینا” ہے۔
کپڑااورچمڑا رنگ کرنے اور گلاس بنانے کیلئے “میگنیزڈائی آکسائد” کا استعمال متعارف کروانے والا “ابنِ سینا” ہے۔
دھاتوں کی صفائی ، “سٹیل” بنانے کا طریقہ متعارف کروانے والا “ابنِ سینا” ہے۔
مصنوعی “دانت” لگانے کا طریقہ متعارف کروانے والا “ابوالقاسم الزہروی” ہے۔
ٹیڑھے “دانتوں” کو سیدھا کرنے اور خراب “دانت” نکالنے کا طریقہ متعارف کروانے والا “ابوالقاسم الزہروی” ہے۔
دُنیا میں سب سے پہلے “ادویات” بنانے کے علم متعارف کروانے والا “ابنِ سینا” ہے۔
دُنیا میں کششِ ثقل کی درست پیمائش کا طریقہ متعارف کروانے والا “عُمرخیام” ہے۔
آنکھ ، ناک ، کان اور پتے کا “آپریشن” سے علاج متعارف کروانے والا “ابوالقاسم الزہروی” ہے۔
دنیا میں “سرجری” کیلئے استعمال ہونے والے تین اہم ترین آلات متعارف کروانے والا “ابوالقاسم الزہروی” ہے۔
دُنیاوی علموں میں “علمِ اعداد” اور “جدیدریاضی” کی بنیاد رکھنے والا “یعقوب الکندی”ہے۔
مریضوں کو دی جانے والی “ادویات کی درست مقدار” کا تعین کرنے والا “یعقوب الکندی” ہے۔
دُنیا کو “آنکھ” پہ روشنی کے مُضراثرات کا بتانے والا “زکریاالرازی” ہے۔
روشنی کی “رفتار” کا آواز کی “رفتار” سے تیز ہونے کا انکشاف کرنے والا “البیرونی” ہے۔
دنیا کو “زمین چاند اور سیاروں” کی حرکات اور خصوصیات سے روشناس کرنے والا “البیرونی” ہے۔
دُنیا کو “قُطب شمالی اور قُطب جنوبی” کی سمت کا تعین کرنے کے “سات طریقے” بتانے والا “البیرونی” ہے۔
علمِ ارضیات میں مغرب والوں کی زبان سے “بابائےارضیات” کہلائے جانے والا “ابنِ سینا” ہے۔
دُنیا میں “ہائیڈروکلورک ایسڈ ، نائٹرک ایسڈ اور سفید سیسہ” بنانے کے طریقے بیان کرنے والا “ابنِ سینا” ہے۔
کیمیکلز بنانے اور ایجاد کرنے میں “بابائےکیمیا” کہلائے جانے والا “ابنِ سینا” ہے۔
دُنیا کو “روشنی کے انعکاس” اور بصارت میں “ریٹینا” کا مرکزی کردار متعارف کروانے والا “ابنِ الہیثم” ہے۔
اور “سیاروں” کی حرکت کا درست تعین کرنے والا “نصیرالدین طوسی” ہے۔
یہ سب مُسلمان سائنسدان ہی تھے اور تُم پوچھتے ہو کہ اِسلام نے آج تک دُنیا کو کیا دِیا ؟۔۔
بارش کے بعد ہوا ميں پانی کے تیرتے ہوئے ننھے ننھے کروی (گیند نما Spherical) قطروں پر جب سورج کی سفید روشنی پڑتی ہے تو سات رنگوں میں بکھر جاتی ہے جسے دھنک یا۔۔۔ مزید پڑھیں

آج ہم وٹامن ای کے ان حیران کن فوائد اوراستعمالات کے بارے میں بتائیں گے، جن کے بارے میں آپ نے کبھی بھی نہیں سناہوگا۔وٹامن ای کومختلف اشیاے کے ساتھ۔۔۔ مزید پڑھیں

ملک و ملت کا نام روشن کرنے والوں کا نام روشن رکھنا زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے۔ ہم بحیثیتِ پاکستانی اپنے فرزندِ ملت ڈاکٹر عبدالسلام کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

کچھ کھانے ایسے ہیں جنہیں دوسرے کھانوں میں شامل کر کے کھایا جائے تو وہ ہمارے نظام انہظام پر اچھے اثرات مرتب نہیں کرتے اور بعض دفعہ ہمیں بیمار بھی کر دیتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

دنیا میں چند عمارات ایسی بھی ہیں جن کی تعمیر پر ایک شاہانہ بجٹ خرچ کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی انہیں دنیا کی مہنگی ترین عمارات ہونے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا،حضور آپ وزیر کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔ بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،ٹھیک ہے لیکن پہلے تم۔۔۔ مزید پڑھیں

یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا ۔ایک ہندو احترام قران میں اس دنیا کی آگ سے محفوظ رہا ہم اس کتاب پر۔۔۔ مزید پڑھیں

یہ ایک مفلس غریب الوطن کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے جو ثابت کرتی ہے کہ آپ ڈٹے رہیں، محنت کرتے رہیں تو بالآخر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

برہنہ حالت میں کبھی خود کو آئینے میں مت دیکھیں کیونکہ اس طرح جن آپ پر عاشق ہو سکتے ہیں اور آپ کے ساتھ تعلق کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اور کوئی بھی ۔۔۔ مزید پڑھیں

جوزف سوان اور تھامس ایڈیسن نے 1870 کی دہائی میں بجلی کا بلب بنایا۔ اس سے چند برس بعد ایڈیسن نے بجلی بنانے کے سٹیشن نیویارک میں پرل سٹریٹ اور لندن میں ۔۔۔ مزید پڑھیں

انسان نے سونا 8,000 سال قبل دریافت کر لیا تھا۔ 750 سال قبل از مسیح تک یعنی سونے کی دریافت کے سوا پانچ ہزار سال بعد تک انسان صرف سات دھاتوں سے واقف تھا ۔۔۔ مزید پڑھیں

سورہ کہف کی تلاوت فتنے دجال سے نجات کا باعث ہے ۔ خروج دجال قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے اور فتنہ دجال زمانے کے شروفتن میں سب سے بڑا فتنہ ہے مکہ مکرمہ۔۔۔ مزید پڑھیں