ایک ہندو کی لاش کو دفن کرنےکاعجیب واقعہ

پنڈت نول کشور کی چتا پر کئی ٹین گھی کے ڈالے گئے تھے لیکن چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی. وہ کوئی عام ہندو نہیں تھا انڈیا کا بہت بڑا نام تھا۔ اس لئے اس کی چتا کو آگ نہ لگنے والے واقعے کی خبر منٹوں میں پورے انڈیا میں پھیل گئی۔
لوگ جوق در جوق شمشان گھاٹ پہنچنے لگے ۔ اس کی جامع مسجد دلی کے امام بخاری سے بہت دوستی تھی امام صاحب نے بھی یہ واقعہ سنا اور فورآ شمشان گھاٹ پہنچے۔انہوں نے اس کے لواحقین کو سمجھایا کہ اس کی ارتھی کو آگ نہیں لگے گی چاہے پورے ہندوستان کا گھی اس پر ڈال دو، بہتر یہی ہے اسے دفنا دو۔
لہذا پہلی بار ایک ہندو کو جلائے بغیر شمشان گھاٹ کے اندر ہی دفن کرنا پڑا۔
اس کی ارتھی کو آگ کیوں نہیں لگ رہی تھی ؟
اس کو آگ کیسے جلا سکتی ہے جس نے قرآن کا احترام مسلمانوں سے بھی بڑھ کر کیا ہو۔
کیسے؟
چلیے تاریخ کے صفحوں کو پلٹتے ہیں!
تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے۔پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے،دوسرا ادارہ اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قران پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا۔نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلیٰ ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔
دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا۔
وقت گزرتا رہا طباعت و اشاعت کا کام جاری رھا۔ پھر برصغیر کی تقسیم ہوئی۔ مسلمان ہندو اور سکھ نقل مکانی کرنے لگے۔ نول کشور جی بھی لاہور سے ترک سکونت کرکے نئی دلی انڈیا چلے گئے۔
ان کے ادارے نے دلی مین بھی حسب سابق قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کا کام شروع کر دیا۔ یہاں بھی قرآن پاک کے احترام کا وھی عالم تھا۔ ادارہ ترقی کا سفر طے کرنے لگا اور کامیابی کی بلندی پر پہنچ گیا۔نول کشور جی بوڑھے ھوگئے اور اب گھر پر آرام کرنے لگے جبکہ ان کے بچوں نے ادارے کا انتظام سنبھال لیا اور ادارے کی روایت کے مطابق قران حکیم کے ادب و احترام کا سلسہ اسی طرح قائم رکھا۔
آخرکار نول کشور جی کا وقت آخر آ گیا اور وہ انتقال کرگئے۔ان کی وفات پر ملک کے طول و عرض سے ان کے احباب ان کے ھاں پہنچے۔ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ ان کے کریا کرم میں شریک ہونے کے لئے شمشان گھاٹ پہنچے۔ ان کی ارتھی کو چتا پر رکھا گیا.چتا پر گھی ڈال کر آگ لگائی جانے لگی تو ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہوا۔ نول کشور جی کی چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی۔چتا پر اور گھی ڈالا گیا پھر آگ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن بسیار کوشش کے باوجود بے سود۔ یہ ایک ناممکن اور ناقابل یقین واقعہ تھا۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ لمحوں میں خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ نول کشور جی کی ارتھی کو آگ نہین لگ رہی۔
مخلوق خدا یہ سن کر شمشان گھاٹ کی طرف امڈ پڑی۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور حیران و پریشان تھے۔ یہ خبر جب جامع مسجد دلی کے امام بخاری تک پہنچی تو وہ بھی شماشان گھاٹ پہنچے۔ نول کشور جی ان کے بہت قریبی دوست تھے۔
اور وہ ان کے احترام قران کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے۔ امام صاحب نے پنڈت جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی چتا جلانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ اس شخص نے اللہ کی سچی کتاب کی عمر بھر جس طرح خدمت کی ہے جیسے احترام کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی چتا کو آگ لگ ہی نہیں سکے گی چاہے آپ پورے ھندوستان کا تیل گھی چتا پر ڈال دیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ان کو عزت و احترام کے ساتھ دفنا دیجئیے۔ چنانچہ امام صاحب کی بات پر عمل کرتے ہوئے نول کشور جی کو شمشان گھاٹ میں ھی دفنا دیا گیا۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا ۔
یہ تحریر لکھتے وقت میرا ذہن بہت کچھ سوچ رہا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ جن کے لئے یہ عظیم کتاب اتاری گئی ہے وہ اس کو پریس کانفرنسوں میں سر پر رکھ کر اس سے اپنے مخالفین پر الزامات لگانے کا کام لیتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر اور توہین کیا ہوگی۔
میں یہ بھی سوچ رہا ہوں دوسرے ممالک کے کچھ غیرمسلم اسلام دشمنی میں اس عظیم کتاب کو نذر آتش کرکے سمجھتے ہیں کہ بہت بڑا کام کر دیا۔
حالانکہ ایسی حرکات سے سوائے نفرت کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
میں نہیں جانتا اس ہندو کا آخرت میں کیا انجام ہوگا لیکن اتنا جان گیا ہوں کہ دنیا میں اس کو آگ لگانا ناممکن ہوگیا تھا کیا آخرت میں آگ اسکے سامنے بے بس ہو جائے گی؟میں یہ بھی سوچ رہا ہوں ایک ہندو احترام قران میں اس دنیا کی آگ سے محفوظ رہا ہم اس کتاب پر ایمان لانے والے اگر اس کی صحیح قدر کریں گے تو یہ آگ ہمیں جہنم کی آگ سے کیوں نہیں بچائے گی؟
ان شاءاللہ میرا ایمان ہے کہ ضرور بچائے گی۔
یاد رہے کہ معروف شعرا کرام ابراہیم ذوق،حکیم مومن خان مومن،شیفتہ اور مرزا اسداللہ خان غالب کے دیوان کی نول کشور جی کےپریس خانے سے ہی طباعت واشاعت ہوئی تھی ۔
بارش کے بعد ہوا ميں پانی کے تیرتے ہوئے ننھے ننھے کروی (گیند نما Spherical) قطروں پر جب سورج کی سفید روشنی پڑتی ہے تو سات رنگوں میں بکھر جاتی ہے جسے دھنک یا۔۔۔ مزید پڑھیں

آج ہم وٹامن ای کے ان حیران کن فوائد اوراستعمالات کے بارے میں بتائیں گے، جن کے بارے میں آپ نے کبھی بھی نہیں سناہوگا۔وٹامن ای کومختلف اشیاے کے ساتھ۔۔۔ مزید پڑھیں

ملک و ملت کا نام روشن کرنے والوں کا نام روشن رکھنا زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے۔ ہم بحیثیتِ پاکستانی اپنے فرزندِ ملت ڈاکٹر عبدالسلام کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

کچھ کھانے ایسے ہیں جنہیں دوسرے کھانوں میں شامل کر کے کھایا جائے تو وہ ہمارے نظام انہظام پر اچھے اثرات مرتب نہیں کرتے اور بعض دفعہ ہمیں بیمار بھی کر دیتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

دنیا میں چند عمارات ایسی بھی ہیں جن کی تعمیر پر ایک شاہانہ بجٹ خرچ کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی انہیں دنیا کی مہنگی ترین عمارات ہونے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا،حضور آپ وزیر کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔ بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،ٹھیک ہے لیکن پہلے تم۔۔۔ مزید پڑھیں

یہ ایک مفلس غریب الوطن کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے جو ثابت کرتی ہے کہ آپ ڈٹے رہیں، محنت کرتے رہیں تو بالآخر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

برہنہ حالت میں کبھی خود کو آئینے میں مت دیکھیں کیونکہ اس طرح جن آپ پر عاشق ہو سکتے ہیں اور آپ کے ساتھ تعلق کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اور کوئی بھی ۔۔۔ مزید پڑھیں

جوزف سوان اور تھامس ایڈیسن نے 1870 کی دہائی میں بجلی کا بلب بنایا۔ اس سے چند برس بعد ایڈیسن نے بجلی بنانے کے سٹیشن نیویارک میں پرل سٹریٹ اور لندن میں ۔۔۔ مزید پڑھیں

انسان نے سونا 8,000 سال قبل دریافت کر لیا تھا۔ 750 سال قبل از مسیح تک یعنی سونے کی دریافت کے سوا پانچ ہزار سال بعد تک انسان صرف سات دھاتوں سے واقف تھا ۔۔۔ مزید پڑھیں

سورہ کہف کی تلاوت فتنے دجال سے نجات کا باعث ہے ۔ خروج دجال قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے اور فتنہ دجال زمانے کے شروفتن میں سب سے بڑا فتنہ ہے مکہ مکرمہ۔۔۔ مزید پڑھیں

خلائی جہاز میں 2 سولر پینل لگائے گئے تھے جن کو سپیس میں پہنچ کر کھولنا تھا لیکن جہاز کے اندر خرابی ہونے کی وجہ سے سولر پینل نے کام کرنا چھوڑ دیا اور یہی وجہ تھی کہ ۔۔۔ مزید پڑھیں