براعظم انٹارکٹکا کے معلوماتی اور دلچسپ حقائق

sample-ad

سارا سال برف میں ڈھکا رہنے والا یہ براعظم زمین کا انتہائی جنوبی خطہ ہے اور اس پر قُطب جنوبی واقع ہے۔اس براعظم کا کل رقبہ 14 ہزار 4 سو 25 مربع کلومیٹر ہے۔یہ چاروں طرف سے سمندر میں گھرا ہے اور انسان کے لیے اپنے اندر بیشمار حیرتوں کے خزانے لیے اسے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔یہاں انٹارکٹکا کے 10 ایسے حقائق شامل کیے جارہے ہیں جو جہاں آپ کو حیرت میں ڈالیں گے وہاں آپ کی معلومات میں اضافے کا باعث بھی بنیں گے۔:
انٹارکٹکا ایک صحرا:
آپ سوچیں گے کہ اتنا پانی اور فریزر جیسا درجہ حرارت رکھنے کے باوجود یہ صحرا کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم جب صحرا کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خیال کرتے ہیں کہ صحرا میں ریت ہوتی ہے اور بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے مگر یہ بات ٹیکنیکلی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ صحرا میں ریت اور گرمی ہو۔
زمین کے وہ علاقے جہاں بہت کم بارش ہو یا بلکل بارش نہ ہو اُنہیں بھی صحرا کہا جاسکتا ہے اور انٹارکٹکا میں موجود برف کی تہہ کو اتنا موٹا ہونے میں 45 ملین سال لگے ہیں اور یہ اتنی موٹی اسی لیے ہوپائی کیونکہ انٹارکٹکا میں انتہائی کم بارش ہوتی ہے اورپچھلے 30 سال میں اس براعظم کے ساؤتھ پُول پر صرف 1 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
زمین کا سب سے زیادہ تازہ پانی:
ایک اندازے کے مطابق دُنیا کا 60 سے 90 فیصد فریش واٹر انٹارکٹکا میں ہے اور اس براعظم کی سطح پر موجود برف کی تہہ 14 ملین سکوئر کلومیٹر پر پھیلی ہُوئی ہے اور بعض مقامات پر یہ تہہ 4 کلومیٹر سے زیادہ موٹی ہے یعنی ماونٹ ایورسٹ کی بُلندی کا نصف صرف برف کی تہہ ہے اور اس براعظم کی زمین کا صرف ایک فیصد حصہ ایسا ہے جس پر برف نہیں ہے اور بہت کم علاقے ایسے ہیں جہاں گرمیوں میں برف پگھل جاتی ہے ان علاقوں میں ایک پیننسولا بھی شامل ہے۔
گرم مرطوب علاقہ :
براعظم انٹارکٹکا میں زمین کا سرد ترین درجہ حرارت منفی93.2 ڈگری ریکارڈ کیا گیا اور اس علاقے کو گرم مرطوب سمجھنا عقل کے بلکل منافی ہے مگر سانس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ خطہ آج سے 40 سے 50 ملین سال پہلے ہرا بھرا جنگل ہوتا تھا جہاں درجہ حرارت 17 ڈگری تک چلا جاتا تھا اوراس علاقے میں ڈائنوسارز کا بسیرا تھا۔
زندہ آتش فشاں پہاڑ :
انٹارکٹکا میں بہت سے آتش فشاں پہاڑ ہیں اور 2 تو ان میں سے زندہ ہیں یعنی لاوا اُگلتےہیں۔ روز آئی لینڈ میں واقع ماونٹ اریبس دُنیا کا دُوسرا بُلند ترین آتش فشاں پہاڑ ہے اور اسے دُنیا کا انتہائی جنوبی آتش فشاں پہاڑ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور دُوسرا زندہ آتش فشاں ڈسیپشن آئی لینڈ میں واقع ہے جو اس علاقے کی سیاحت کرنے والوں کو اپنے پاس بُلاتا ہے۔
ٹائم زون:
براعظم انٹارکٹکا کو اپنا کوئی ٹائم زون نہیں ہے اور یہاں دن اور رات سے وقت کا شُمار کرنا ناممکن ہے کیونکہ گرمیوں میں 24 گھنٹے سُورج نکلا رہتا ہے اور سردیوں میں رات ہی رہتی ہے اور وہ سائنس دان جو دُنیا کہ مختلف خطوں سے اس جگہ تحقیق کرنے آتے ہیں اپنے اپنے ملکوں کا ٹائم زون استعمال کرتے ہیں۔
براعظم پرحکومت :
انسان نے یہ براعظم پہلی دفعہ 1820 میں دریافت کیا اور اس کی دریافت کے بعد بہت سے مُلکوں نے اسے اپنی سرزمین قرار دیا اور بہت سے دُوسرے ملکوں نے اُن کی اس قبضہ گیری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا پھر 1959 میں 12 ملکوں نے ایک معاہدے پر سائن کیے جسکے مطابق یہ براعظم کسی کی بھی ملکییت نہیں ہے اور اس کی زمین کو امن اور سائنس کے لیے استعمال کیا جائے گا تب سے اب تک 41 ملک اس معاہدے پر سائن کر چکے ہیں اور اس خطے کا کوئی بھی فیصلہ آپس میں صلاح مشورے کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ اس خطے میں مچھلی وغیرہ پکڑنے کے انتہائی سخت قانون ہیں اور اس خطے کی معدنیات کے حصول کے لیے کُھدائی ممنوع ہے۔
تیز ہواؤں کا خطہ :
اس براعظم میں ہر وقت خشک اور تیز ہوائیں چلتی ہیں اور بعض دفعہ یہ تیز ہوا اس خطے کے کئی علاقوں میں 320 کلومیٹر کی رفتار تک چلی جاتی ہے۔
مدفون پہاڑ :
اس براعظم میں 9ہزار فٹ تک کی بُلندی کے پہاڑ ہیں جو تقریباً 1200 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہ پہاڑ صدیوں سے برف کی تہہ کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔
نر پینگوئین کی رہائشگاہ:
پینگوئنز اس براعظم کا پرندہ ہے جو یہاں کالونیوں کی شکل میں رہتا ہے اور اس پرندے کا نر بادشاہ پینگوئن گرم خُون والا واحد جاندار ہے جو سارا سال حتی کے سردیوں میں بھی یہ خطہ نہیں چھوڑتا اور اس پرندے کی مادہ سردیوں کے 9 ہفتے سمندر میں گزار کر واپس اپنے نر کے پاس آجاتی ہے۔
سُرخ پانی کی جھیل :
1911ءمیں اس براعظم پر ایک حیرت انگیز واقع نوٹ کیا گیا جب اس خطے کے مشرقی حصے میں گلیشیر پر سُرخ پانی اُبلتا نظر آیا اور ایک عرصہ تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ پانی کیسے سُرخ ہوا پھر 2017 میں سائنس دانوں نے اس راز سےپردہ اُٹھایا اور بتا یا کہ یہاں گلیشیر کے نیچے جھیل میں نمک اور آکسی ڈائزڈ آئرن پانی میں شامل ہے اور جب یہ آکسیجن کے ساتھ ملتا ہے تو آئرن پر زنگ لگنے سے پانی کا رنگ سُرخ ہو جاتا ہے۔

sample-ad
کیاآپ جانتے ہیں کہ قرآن پاک میں کن مساجد، شہروں, پہاڑوں دھاتوں, سبزیوں, درختوں, پھلوں, پرندوں, حشرات الارض, جانوروں اورانبیاء علیہم السلام کاذکر ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

امریکہ کینیڈا وغیرہ کے بارے میں اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہ تیل کی پیداوار کیوجہ سے آج اس مقام پہ کھڑے ہیں تو یقین جانئے آپ کو اس بھیانک خواب سے جاگنے کی ۔۔۔ مزید پڑھیں

زیتون کے روغن میں پکے ہوئے پکوان ،اچار یا مٹھائیاں ذائقے میں منفرد ہوتی ہے اور معدے پر گراں نہیں گزرتی، زیتون کا تیل صحت اور تندرستی پر مثبت اثرات مرتب ۔۔۔ مزید پڑھیں

پرچون کی دکان پر زیادہ تیزی سے گاہکوں کو کیسے بھگتایا جا سکتا ہے؟ یہ وہ سوال تھا جو 1948 میں جوزف وڈ لینڈ کو حل کرنے کے لئے ملا۔ وڈ لینڈ ذہین نوجوان تھے جو جنگ۔۔۔ مزید پڑھیں

پیشاب کی نالی میں انفیکشن ایک بہت تکلیف دہ عمل ہے ۔اس انفیکشن کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو کچن میں موجود ان 4 اشیاء کی چائے کا استعمال کریں اورتکلیف سے راحت پائیں۔۔۔ مزید پڑھیں

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی ،نوکری کی طلب کے لئے حاضر ہوا، قابلیت پوچھی گئی تو اس نے کہا،سیاسی ہوں۔(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے ۔۔۔ مزید پڑھیں

sample-ad
کیاآپ جانتے ہیں کہ قرآن پاک میں کن مساجد، شہروں, پہاڑوں دھاتوں, سبزیوں, درختوں, پھلوں, پرندوں, حشرات الارض, جانوروں اورانبیاء علیہم السلام کاذکر ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

اس مضمون میں راقم ایک ٹیکنک سے قارئین کو آگاہ کرنا چاہتا ہے۔جس کے ذریعہ آپ اپنے بچوں کی موبائل (اسمارٹ فون) نیز انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

ہیکل کی پہلی تعمیر کے دوران ہی حضرت سلیمان علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن جنات کو پتہ نہ چل سکا اور انہوں نے ہیکل کی تعمیر مکمل کردی۔ یہ واقعہ آپ نے ۔۔۔ مزید پڑھیں

جب آپ آئی فون کو گہرائی میں دیکھتے ہیں تو پھر اس کی داستان زیادہ دلچسپ ہے۔ سٹیو جوبز یا ان کے پارٹنر سٹیو ووزنیاک اور بعد میں آنے والے ٹم کک یا پھر اس کے ڈیزائنر ۔۔۔ مزید پڑھیں

اس آرٹیکل میں فون چارج کرتے ہوئے عام کی جانے والی چند غلطیوں کو جن کی ہم پروا نہیں کرتے تحریر میں لایا جارہا ہے، یہ غلطیاں ہمارےموبائلز کے شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

علامہ شامی نے مردوں اور عورتوں کی نماز میں 26 فرق لکھے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔عورتوں کو نماز شروع کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کرلینا چاہیے کہ ان کے چہرے ۔۔۔ مزید پڑھیں