ہیج ہاگ(کانٹوں والاچوہا)کے دلچسپ حقائق

یہ سیہہ نہیں ہے بلکہ اس سے ملتا جلتا ننھا سا جانور ہے جسے Hedgehog کہتے ہیں۔ Hedge اصل میں جھاڑیوں کو کہتے ہیں اور Hog جنگلی سور کو۔ چونکہ اس جانور کی آواز اور ناک کی نتنھنی سور سے ملتی جلتی ہے اور اسکو زیادہ تر جھاڑیوں میں اپنا مسکن بناتے ہوئے اور شکار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اس لیے اسکا نام HedgeHog پڑگیا۔
یہ جانور افریقہ، ایشیا اور نیوزی لینڈ میں پایا جاتا ہے۔ یہ آسٹریلیا ، شمالی و جنوبی امریکہ میں نہیں ملتا البتہ یہاں کے بہت سے ممالک میں پالتو جانور کے طور پر برآمد کیا جاتا ہے۔ اس کی زیادہ تر نسلیں کچھ انچ بڑی ہوتی ہیں جو باآسانی ہاتھ میں آجاتی ہیں اور وزن 500 گرام سے 1.5 کلو تک ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی اسکی بہت ساری نسلیں پائی جاتی ہیں۔
یہ جانور چٹانوں، صحرائوں، گھاس کے میدانوں، جنگلوں، گھریلو باغات ہر جگہ مل جاتا ہے انکی کوئی 17 نسلیں دریافت ہوچکی ہیں۔ انکو اکثر انکے کانٹے دار جسم کی وجہ سے سیہہ سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اصل میں سیہہ جیسے اور بھی کئی جانور ہیں جنکے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں ۔ ان جانوروں میں HedgeHog , Echidna , اور Monotreme (تصاویر) شامل ہیں۔
ہیج ہاگ Omnivours ہیں یعنی یہ گوشت اور سبزی دونوں کھاتے، یہ ہر قسم کے کیڑے، چوہے، مینڈک، چھپکلی ، پرندوں کے انڈے اور خصوصاً سانپ بھی کھاجاتے۔ سانپوں کے خلاف انکے جسم میں ایسا پروٹین موجود ہے جو سانپ کے زہر سے انکی حفاظت کرتا ہے۔ اسکے علاوہ انکے جسم پر موجود کانٹوں کی وجہ سے سانپ جوابی حملہ بھی نہیں کر پاتا بلکہ خود شکار ہوجاتا۔
یہ مختلف پھل، سبزیاں، پتے وغیرہ بھی کھاتے ہیں اور اس مقصد کے لئیے اکثر باغات میں پہنچ جاتے لیکن زیادہ تر گزارا وہاں کے کیڑوں پہ کرتے کیونکہ گوشت کا تو اپنا ہی مزا ۔
یہ انسانوں کو سخت نقصان نہیں پہنچاتے۔ یہ شرمیلے ہوتے ہیں اور انسانوں سے دور ہی رہتے ہیں اگر واسطہ پڑ بھی جائے تو آپ کو ہلکا سا کاٹیں گے جیسے کسی نے زور سے چیونٹی کاٹی (Pinch) ہو۔اگر بہت غصے میں ہوں تو شاید دانتوں کا ہلکا سا نشان بھی ڈال دیں۔ اسی “پیار” کی وجہ سے انہیں پالا بھی جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی بہت ساری نسلیں ہیں جو بطور Pet پالی جاسکتی ہیں۔
انکے جسم پر موجود کانٹے سیہہ (Porcupine) کے کانٹوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ سیہہ کے کانٹے مچھلی کی ہک کی طرح ہوتے ہیں جو جسم میں پیوست ہوکر علیحدہ نہیں ہوتے۔ جبکہ اسکے کانٹے Keratine خشک مادے سے بنے ہیں۔ یہ وہی Keratine ہے جس سے ہمارے ناخن بھی بنے ہیں مچھلیوں کے سکیلز بنے ہیں اور بہت سارے پرندوں کی چونچ بنی ہے۔ ہیج ہاگ کے کانٹے تھوڑے نرم اور Fix ہوتے ہیں جو عام حالات میں اسکے جسم سے نہیں اترتے۔ ایک اندازے کے مطابق اسکے جسم پر 5000 سے 7000 تک کانٹے (Quills or Spines) ہوتے ہیں۔
یہ رات کا شکاری (Nocturnal) جانور ہے، چونکہ سانپ بھی زیادہ تر Nocturnal یعنی رات کو نکلتے ہیں تو اسکے مزے۔ لیکن الو کی بھی بہت ساری نسلیں Nocturnal ہیں تو پھر یہ بھی الووں کے ہتھے چڑھ جاتے۔
ہیج ہاگ بھی Honey Badger کی طرح تنہا زندگی گزارنے والا جانور ہے اور صرف ملاپ کے وقت مادہ کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ مادہ 35 سے 58 دن میں 3 سے 6 بچے دیتی ہے جنہیں 4 سے 6 ہفتے پال کر آزاد کردیتی ہے۔ بچے پیدا ہوتی ہی وہ نر کو الگ کردیتی ہے۔ کیونکہ نر بھوک کے وقت اپنے ہی بچے کھانے لگ پڑتا ہے۔
ہیج ہاگ ایک خاص کام کرتے رہتے ہیں جسے Anointing کہتے ہیں۔ یہ خاص کام یہ ہے کہ جیسے ہی انہیں رہنے کو کوئی نئی جگہ ملے یہ وہاں کی اردگرد کی چیزوں کو چاٹ کر کافی دیر تک ہر طرف سے اپنا جسم چاٹتے رہتے ہیں۔ ماہرین حیران ہیں کہ یہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کچھ کے نزدیک یہ عمل اسلئیے تاکہ جسم کو گندی بدبو سے لیس کردیں تاکہ دوسرے جانور نئی جگہ پر حملہ آور نہ ہوں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ ملاپ کے لئیے مخالف جنس کو کشش کرنے کے لئیے کرتے۔
ہیج ہاگ بڑے زبردست Hibernator ہیں۔ Hibernate وہ عمل ہے جس میں کوئی جانور ایک لمبے عرصے کے لئیے سوجائے۔ عام طور پر یہ عمل سردیوں کا موسم گزارنے کے لئیے ہوتا ہے۔ ہیج ہاگ ویسے بھی دن کا بڑا حصہ سوئے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی سردیاں شروع ہوں۔ یہ اپنے آپ کو زمین پر موجود خشک پتوں میں گیند کی طرح گول کرکے اپنے کانٹے باہر نکال کے سوجاتے ہیں۔
Hibernation کے دوران انکا ٹمپریچر انتہائی کم اور دل کی دھڑکن بہت آہستہ ہوجاتی ہے۔ اگر اس وقت آپ اسکو ہاتھ لگائیں گے تو بہت ٹھنڈا محسوس ہوگا۔ تاہم وہ نسلیں جو سدابہار گرم علاقوں صحرائوں میں رہتی ہیں وہ Hibernate نہیں کرتیں۔ یہ گھر میں پالتو جانور بنائے ہوں تو سردی زیادہ ہونے پر Hibernation میں چلے جاتے ہیں اس لئیے انہیں پالتے وقت ایسا کمرہ دینا چاہئے جس کا درجہ حرارت گرنے نہ پائے۔
انکا دفاعی نظام بڑا زبردست ہے۔ یہ خطرے کے وقت جسم کو گیند کی طرح گول کرلیتے اور اپنے کانٹے نکال لیتے۔ اب آپ جو مرضی کرتے رہیں یہ گیند نہیں کھلنے والا۔ آپ پاس بیٹھے رہیں کہ شاید ایک دو گھنٹوں بعد یہ گیند کھل جائے۔ لیکن یہ تو بڑا زبردست سوتے ہیں اور ایک اور عمل بھی کرسکتے جسے Estivation کہتے جسمیں جانور ایک چھوٹا عرصہ لمبی نیند سوسکتا ہے۔ اکثر ان کو ایسے گیند کی طرح دیکھ کر جانور انہیں چھوڑ کر آگے چلے جاتے۔
گرچہ قدرت نے انہیں حفاظتی تدابیر سے مالامال کر رکھا ہے پھر بھی یہ اکثر عقاب، الو ، اور بیجر ( HoneyBadger ) کے ہتھے چڑھ جاتےہیں۔انکی اوسط عمر 7 سال تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
بارش کے بعد ہوا ميں پانی کے تیرتے ہوئے ننھے ننھے کروی (گیند نما Spherical) قطروں پر جب سورج کی سفید روشنی پڑتی ہے تو سات رنگوں میں بکھر جاتی ہے جسے دھنک یا۔۔۔ مزید پڑھیں

آج ہم وٹامن ای کے ان حیران کن فوائد اوراستعمالات کے بارے میں بتائیں گے، جن کے بارے میں آپ نے کبھی بھی نہیں سناہوگا۔وٹامن ای کومختلف اشیاے کے ساتھ۔۔۔ مزید پڑھیں

ملک و ملت کا نام روشن کرنے والوں کا نام روشن رکھنا زندہ قوموں کا شیوہ رہا ہے۔ ہم بحیثیتِ پاکستانی اپنے فرزندِ ملت ڈاکٹر عبدالسلام کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

کچھ کھانے ایسے ہیں جنہیں دوسرے کھانوں میں شامل کر کے کھایا جائے تو وہ ہمارے نظام انہظام پر اچھے اثرات مرتب نہیں کرتے اور بعض دفعہ ہمیں بیمار بھی کر دیتے ہیں۔۔۔ مزید پڑھیں

دنیا میں چند عمارات ایسی بھی ہیں جن کی تعمیر پر ایک شاہانہ بجٹ خرچ کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی انہیں دنیا کی مہنگی ترین عمارات ہونے کا اعزاز حاصل ہوچکا ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا،حضور آپ وزیر کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔ بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،ٹھیک ہے لیکن پہلے تم۔۔۔ مزید پڑھیں

یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا ۔ایک ہندو احترام قران میں اس دنیا کی آگ سے محفوظ رہا ہم اس کتاب پر۔۔۔ مزید پڑھیں

یہ ایک مفلس غریب الوطن کے عزم و ہمت کی انوکھی داستان ہے جو ثابت کرتی ہے کہ آپ ڈٹے رہیں، محنت کرتے رہیں تو بالآخر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔۔۔ مزید پڑھیں

برہنہ حالت میں کبھی خود کو آئینے میں مت دیکھیں کیونکہ اس طرح جن آپ پر عاشق ہو سکتے ہیں اور آپ کے ساتھ تعلق کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اور کوئی بھی ۔۔۔ مزید پڑھیں

جوزف سوان اور تھامس ایڈیسن نے 1870 کی دہائی میں بجلی کا بلب بنایا۔ اس سے چند برس بعد ایڈیسن نے بجلی بنانے کے سٹیشن نیویارک میں پرل سٹریٹ اور لندن میں ۔۔۔ مزید پڑھیں

انسان نے سونا 8,000 سال قبل دریافت کر لیا تھا۔ 750 سال قبل از مسیح تک یعنی سونے کی دریافت کے سوا پانچ ہزار سال بعد تک انسان صرف سات دھاتوں سے واقف تھا ۔۔۔ مزید پڑھیں

سورہ کہف کی تلاوت فتنے دجال سے نجات کا باعث ہے ۔ خروج دجال قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے اور فتنہ دجال زمانے کے شروفتن میں سب سے بڑا فتنہ ہے مکہ مکرمہ۔۔۔ مزید پڑھیں